بدھ, اکتوبر 7, 2026
ہوماہم خبریںبین الاقوامی خبریںامریکا میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی خاتون زہریلے انجیکشن کے...

امریکا میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی خاتون زہریلے انجیکشن کے بعد زندہ بچ گئی

امریکی ریاست ٹینیسی میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہوگئی، سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک ہوش میں آگئیں اور بات چیت کرنے لگی ہیں۔

کرسٹا پائیک کے وکلا کے مطابق 50 سالہ خاتون کو گزشتہ ہفتے سزائے موت دینے کی کوشش کے دوران بازوؤں میں ڈرِپ لگانے کے لیے شدید چوٹیں آئیں، تاہم وہ اب ہوش میں ہیں اور طبی نگہداشت میں ہیں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ کرسٹا پائیک کو اب بھی ہسپتال کے بستر سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ذریعے باندھ کر رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی صحت یابی میں طویل وقت لگنے کا امکان ہے۔

کرسٹا پائیک کو 30 ستمبر کی شب ریاستی دارالحکومت نیش وِل کی ریور بینڈ میکسمم سکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں مہلک انجیکشن دیا گیا تھا، تاہم طبی پیچیدگیوں کے باعث عمل مکمل نہ ہوسکا اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

وکلا کے مطابق تقریباً ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کے دوران حکام کو پینٹوباربیٹل دوا کی دو خوراکیں نس کے ذریعے دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران پائیک کو ہانپتے، روتے اور تکلیف میں کراہتے سنا گیا، جبکہ انہوں نے ایک موقع پر کہا کہ ان کا بازو پھٹنے والا محسوس ہورہا ہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ انجیکشن کی کوشش کے دوران دوا ٹشوز میں رسنے کے باعث ان کے دونوں بازو سوج گئے، جھلس گئے اور ان پر چھالے پڑ گئے۔

کرسٹا پائیک کے وکلا نے عدالت سے ناکام سزائے موت کی کارروائی کے شواہد محفوظ رکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کارروائی میں ریاستی محکمہ اصلاح نے پائیک کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں غیر انسانی اور غیر معمولی سزا کا نشانہ بنایا۔

کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ اسکول ساتھی کولین سلیمر کے قتل میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ واقعے کے وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی۔ مقدمے کے مطابق پائیک، اس کے 17 سالہ دوست ٹاڈاریل شپ اور ایک ساتھی نے سلیمر کو ٹینیسی یونیورسٹی کے کیمپس کے قریب جنگل میں لے جاکر قتل کیا تھا۔

پائیک اور شپ نے قتل کا اعتراف کیا تھا اور دونوں کو پہلے درجے کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ پائیک کو سزائے موت جبکہ شپ کو پیرول کی گنجائش کے ساتھ عمر قید سنائی گئی۔

پائیک کے وکلا نے رحم کی اپیل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سزا سناتے وقت ان کے بچپن کے صدمات، جن میں جنسی زیادتی، نظرانداز کیے جانے اور ذہنی بیماری کا علاج نہ ہونا شامل تھا، کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔

پائیک تقریباً 30 سال سے ڈیتھ رو پر تھیں اور ٹینیسی میں طویل عرصے تک سزائے موت پانے والی واحد خاتون تھیں۔

ریاستی گورنر بل لی نے گزشتہ ہفتے پائیک کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ تاہم ناکام سزائے موت کے واقعے کے بعد گورنر نے رواں سال باقی تمام طے شدہ سزائے موت پر عمل درآمد معطل کرکے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

واقعے کے بعد ٹینیسی کے محکمہ اصلاح کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے بھی استعفیٰ دے دیا، جبکہ پائیک امریکی تاریخ میں مہلک انجیکشن دیے جانے کے بعد زندہ بچ جانے والی پہلی معروف شخص بن گئی ہیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!