امریکا نے تقریباً 47 برس بعد شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شامی حکومت کے دہشت گرد گروہوں سے مکمل لاتعلقی کے اعلان کے اعتراف میں کیا گیا۔
اس کے علاوہ امریکا نے شامی صدر احمد الشرع کی سابق تنظیم حیات التحریر الشام کو بھی بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
شامی وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے امریکی اقدام کو تاریخی قدم قرار دیا ہے۔
وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کا کہنا تھا شامی حکومت شفافیت، باہمی مفادات اور احترام پر مبنی ماحول کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام کی اولین ترجیح سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی جارحیت روکنا ہے، موجودہ صورتحال میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتے۔
