اسلام آباد/ کوئٹہ:چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ خواتین کا پارلیمنٹ، سینیٹ اور قانون سازی کے عمل میں موثر کردار ایک مضبوط، ترقی پسند اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ خواتین صرف آبادی کا ایک بڑا حصہ ہی نہیں بلکہ معاشرتی، معاشی اور قومی ترقی کی اہم شراکت دار بھی ہیں۔ ان کی صلاحیتوں، تجربات اور مسائل کو قومی پالیسی سازی اور قانون سازی میں مناسب نمائندگی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں خواتین کی موجودگی جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ قانون سازی کو زیادہ جامع، متوازن اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بناتی ہے۔ خواتین ارکانِ پارلیمنٹ اپنے تجربات اور زمینی حقائق کی روشنی میں ایسے مسائل کو ایوانوں میں اجاگر کرتی ہیں جو اکثر عمومی بحث میں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت، معاشی خودمختاری، ملازمت کے مساوی مواقع، تحفظ اور بچوں کی فلاح و بہبود جیسے معاملات پر ان کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ قانون سازی محض قوانین کی منظوری کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو تحفظ، انصاف اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایسے موثر قوانین اور پالیسیوں کی ضرورت ہے جن پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ پارلیمنٹ کو خواتین کے خلاف امتیازی رویوں، تشدد، معاشی استحصال اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں خواتین کی نمائندگی وفاق کی تمام اکائیوں، بالخصوص بلوچستان جیسے صوبوں کی خواتین کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ بلوچستان کی خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کے بہتر مواقع فراہم کرنا قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔ چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے اپنے پارلیمانی کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحیثیت خاتون سینیٹر اور چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق خواتین، بچوں اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کے بنیادی حقوق کا تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پارلیمانی کمیٹیوں اور قانون سازی کے فورمز کو عوامی مسائل کے حل، متعلقہ قوانین کا جائزہ لینے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر سفارشات مرتب کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوانوں میں اپنی آواز کو صرف خواتین کے مخصوص مسائل تک محدود نہ رکھیں بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، ماحولیات، گورننس، قومی سلامتی اور سماجی ترقی سمیت ہر اہم قومی معاملے میں بھرپور کردار ادا کریں۔ خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی میں شمولیت قومی ترقی کے عمل کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، انہیں بااختیار بنانے، قانون سازی میں ان کی موثر نمائندگی اور ایک مساوی و منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے پارلیمنٹ اور سینیٹ میں اپنی آواز اور کردار بھرپور انداز میں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا اور انہیں قومی فیصلہ سازی میں برابر کا شریک بنانا ناگزیر ہے۔
خواتین کی پارلیمانی نمائندگی محض نشستوں تک محدود نہیں، قانون سازی اور قومی پالیسی سازی میںاہم کردار ہے ، خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
RELATED ARTICLES
