بدھ, نومبر 4, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے مائنس سرفراز بگٹی ناگزیر ہے،موجودہ...

بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے مائنس سرفراز بگٹی ناگزیر ہے،موجودہ صوبائی حکومت 100 فیصد ناکام ہوچکی، سردار عبدالرحمن کھیتران

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رکن بلوچستان اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے موجودہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کو عہدے سے ہٹانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ ان کے بقول موجودہ صوبائی حکومت 100 فیصد ناکام ہوچکی ہے اور وزیراعلی صرف گفتار کے غازی ہیں، جبکہ صوبے کے حالات خیبرپختونخوا سے بھی بدتر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور مقتدرہ قوتوں سے اپیل کی کہ بلوچستان کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، وہ خود جرگہ بلانے اور تمام قدآور سیاسی و قبائلی شخصیات کو ایک میز پر لانے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس عمل کے لیے وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کا عہدے پر موجود نہ ہونا ضروری ہے۔ایک انٹرویو میں سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ خان آف قلات کے فرزند کو قومی شاہراہ این 25 سے اغوا کیا گیا، کمشنر مکران تاحال بازیاب نہیں ہوسکے، جبکہ ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور ججز تک کے اغوا کے واقعات سامنے آچکے ہیں، اس کے باوجود حکومتی دعوے ہیں کہ صوبے میں امن و امان قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان امن کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، لیکن زمینی حقائق ان دعوں سے مختلف ہیں۔ کیا کوئی شخص رات کے وقت خضدار یا سبی سے کوئٹہ کا سفر کرسکتا ہے؟ کیا فتنہ الہندوستان کے خطرے کے بغیر ژوب سے کوئٹہ تک سفر ممکن ہے؟ ان سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے بلوچ بیلٹ کا بڑا حصہ نوگو ایریا بن چکا ہے، جبکہ وزیراعلی کا یہ کہنا کہ صوبے میں کوئی نوگو ایریا نہیں، زمینی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ صوبائی حکومت کی بڑی غلطیوں میں سے ایک لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنا تھا۔ سیکیورٹی فورسز امن کی بحالی کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، لیکن مقامی سطح پر انہیں مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہورہا، جو حکومتی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو تقریبا پونے تین سال ہونے والے ہیں، کیا وزیراعلی نے کسی ایک قدآور سیاسی یا قبائلی شخصیت، نواب، سردار یا خان کو وزیراعلی ہاس مدعو کیا؟ ان کے بقول صوبے کی اہم شخصیات موجودہ وزیراعلی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خیبرپختونخوا سے بھی زیادہ خراب ہوچکے ہیں اور موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہے۔ ان کے خیال میں گورنر راج نافذ کرکے 40 سے 45 سالہ سیاسی تجربہ رکھنے والی کسی شخصیت کو گورنر مقرر کیا جانا چاہیے، تاکہ صوبے میں سیاسی و قبائلی قیادت کو اعتماد میں لے کر امن کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی نے کہا کہ وہ نواب مگسی، نواب اسلم رئیسانی سمیت تمام سرداروں، نوابوں، میروں اور خانوں کو دعوت دیں گے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ان کے کوئی مطالبات ہیں تو وہ انہیں حکومت کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہیں اور ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے بھی آمادہ ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وزیراعلی ہاس اس وقت صرف چار سے پانچ افراد چلا رہے ہیں، جو صوبے کے انتظامی اور سیاسی معاملات پر سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور مقتدرہ قوتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے حالات کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جرگہ بلانے کے لیے تیار ہیں اور خود اس میں شریک ہوں گے۔ وہ محمود خان اچکزئی، نواب مگسی، نواب اسلم رئیسانی، سردار یار محمد رند، نواب شاہوانی، سردار ڈومکی، بگٹی اور مری قبائل کے سرداروں سمیت تمام اہم سیاسی و قبائلی شخصیات کو ایک میز پر لانے کی کوشش کریں گے، لیکن یہ جرگہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کے بغیر ہوگا۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ اگر وزیراعظم اور مقتدرہ قوتیں سنجیدہ ہیں تو بلوچستان ابھی بھی ہاتھ سے نہیں نکلا اور صوبے میں دوبارہ امن بحال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی متفقہ شخصیت کو قیادت سونپی جائے جس کے ساتھ صوبے کی تمام قدآور سیاسی و قبائلی شخصیات بیٹھنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلی کو ہٹا کر کوئی نئی متفقہ شخصیت مقرر کی جاتی ہے یا گورنر راج کے ذریعے موجودہ وزیراعلی کو عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ امن کی بحالی کے لیے ہر سردار، نواب، میر اور خان کے گھر جانے سے گریز نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ محمود خان اچکزئی، نواب مگسی، نواب اسلم رئیسانی، سردار یار محمد رند، نواب شاہوانی، سردار ڈومکی اور بگٹی و مری سرداروں کے گھروں اور مہمان خانوں میں جاسکتے ہیں، لیکن ان کے بقول موجودہ وزیراعلی ان شخصیات سے رابطہ قائم کرنے اور انہیں ایک میز پر لانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ جس دن وزیراعلی عہدے سے ہٹیں گے، تمام سیاسی و قبائلی قیادت مل بیٹھ کر صوبے کے مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرسکتی ہے۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ وہ اور ان کے خاندان کے بزرگ نسلوں سے اس سرزمین سے محبت کرتے آئے ہیں۔ ان کے بزرگوں نے پاکستان کو تسلیم کیا، وہ سبز ہلالی پرچم کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس پرچم تلے اپنے مستقبل پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے اسلام آباد کو بعض اوقات زمینی حقائق سے مختلف انداز میں بریف کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھی پریس کانفرنس کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا جائے گا، نقل مکانی سمیت کوئی بھی اقدام پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار امن کے قیام اور سرحدوں کے تحفظ کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، جبکہ بلوچستان لبریشن آرمی بھی مقامی لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کے بقول دونوں جانب ہونے والے جانی نقصانات پر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سرزمین کے وارث ہیں اور اگر انہیں نشانہ بنایا گیا تو ان کے بھائی اور بچے بھی متاثر ہوں گے، اسی طرح سیکیورٹی فورسز کے شہدا بھی ان کے لیے قابل احترام ہیں۔خان آف قلات کے فرزند کے اغوا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ بلوچ نہیں ہیں اور حکومت ان کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، ان کا بیٹا بھی فوج میں خدمات انجام دے چکا ہے اور ان کے علاقے کھیتران کے لوگ بھی پاک فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے محض بیانات اور دعوے کافی نہیں، بلکہ مقامی آبادی، سیاسی قیادت اور قبائلی شخصیات کو اعتماد میں لے کر سنجیدہ سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!