منگل, اگست 25, 2026
ہوماہم خبریںمصنوعی ذہانت سے دہشتگردوں کو خطرناک ہتھیار بنانے میں مدد ملنے کا...

مصنوعی ذہانت سے دہشتگردوں کو خطرناک ہتھیار بنانے میں مدد ملنے کا خدشہ

مصنوعی ذہانت سے دہشتگردوں کو خطرناک ہتھیار بنانے میں مدد ملنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ٹیک اگینسٹ ٹیررازم کی حالیہ تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت دہشت گردوں اور غیر تجربہ کار انتہاپسندوں کے لیے حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے سے متعلق معلومات تک رسائی آسان بنا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاص طور پر ایسے جدید اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز تشویش کا باعث ہیں جنہیں ڈاؤن لوڈ کر کے نجی طور پر چلایا جا سکتا ہے، ایسے ماڈلز ان افراد کو خطرناک معاونت فراہم کر سکتے ہیں جو پہلے پیچیدہ حیاتیاتی حملوں کے لیے درکار سائنسی مہارت نہیں رکھتے تھے۔

محققین کے مطابق بعض اے آئی ماڈلز مقامی طور پر چلائے جا سکتے ہیں اور ان میں درج کی جانے والی معلومات کمپنی کے سرورز تک نہیں پہنچتیں، جس کے باعث حکام کے لیے ان کے استعمال کی نگرانی مشکل ہو سکتی ہے، ایسے ماڈلز میں موجود حفاظتی پابندیوں کو کمزور یا ختم کیے جانے کا خدشہ بھی ہے۔

تحقیق کے مطابق ابتدائی تجربات میں تقریباً ایک تہائی جوابات نے ایسی بامعنی معاونت فراہم کی جو کسی بدنیت فرد کی دہشت گرد سرگرمی کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی تھی۔

رپورٹ میں حساس معلومات اور حیاتیاتی مواد تک رسائی محدود کرنے، مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی بہتر بنانے اور اے آئی کے غلط استعمال کی کوشش کرنے والوں کے خلاف مؤثر رکاوٹیں اور سزائیں یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!