کوئٹہ: نیشنل پارٹی کی رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ نے 28 اگست شہدائے صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں بلوچستان کے شہید صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حق اور سچ کی آواز عوام تک پہنچانے کے لیے صحافیوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، شہدائے صحافت کی قربانیاں پوری صحافتی برادری اور قوم کے لیے مشعل راہ ہیں‘اپنے جاری کردہ بیان میں کلثوم نیاز بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں صحافت کرنا ایک مشکل اور پرخطر ذمہ داری بن چکی ہے۔ صوبے کے صحافی بدامنی، دہشتگردی، دھمکیوں، دباؤ، معاشی مشکلات اور دیگر سنگین مسائل کے باوجود عوام کو باخبر رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو خصوصاً شدید مشکلات اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، ان کی آواز دبانے کے بجائے ان کے تحفظ اور آزادی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ صحافیوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات کا فوری نوٹس لے اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں رکن بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ آزادی صحافت جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اختلاف رائے اور تنقید کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھتے ہوئے صحافیوں کو آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ کسی بھی صحافی کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران دھمکی، دباؤ یا خوف کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ کلثوم نیاز بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے صحافیوں کے تحفظ کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جائے، صحافیوں کو درپیش سیکیورٹی مسائل کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں جبکہ شہید اور زخمی ہونے والے صحافیوں کے خاندانوں کی مالی معاونت اور فلاح و بہبود کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے صحافت نے قلم کی حرمت اور عوام کے حقِ آگاہی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت، سیاسی جماعتوں اور معاشرے کو مل کر ایسا ماحول قائم کرنا ہوگا جہاں بلوچستان کا صحافی بلاخوف و خطر سچ لکھ اور بول سکے۔
صوبے کی کٹھن حالات میں صحافت کرنا انتہائی مشکل ہے بلوچستان کے صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، کلثوم نیاز بلوچ
RELATED ARTICLES
