اتوار, اگست 30, 2026
ہوماہم خبریںنیپال میں سیلاب سے ہلاک سیکڑوں نامعلوم افراد کی اجتماعی تدفین

نیپال میں سیلاب سے ہلاک سیکڑوں نامعلوم افراد کی اجتماعی تدفین

نیپال کے خوبصورت ضلع چتوان میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے سیکڑوں نامعلوم افراد کی اجتماعی تدفین شروع کردی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جنگلات اور دریاؤں کے لیے مشہور چتوان کا علاقہ اب ان افراد کے لیے عارضی قبرستان بن گیا ہے جن کی لاشیں شناخت کے قابل نہیں رہیں۔ حکام نے سیلاب سے تباہ حال وادیوں سے تقریباً 200 کلومیٹر دور دیوگھاٹ کے جنگلات میں سیکڑوں قبریں کھودی ہیں۔

چتوان کے ضلعی افسر گنیش آریا کے مطابق حکام کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، کیونکہ لاشیں تیزی سے گل سڑ رہی تھیں اور ان سے عوامی صحت کو خطرہ لاحق تھا۔حکام نے ہفتے کے روز جنگل میں 96 نامعلوم لاشیں دفن کیں، جبکہ اتوار کو مزید 100 سے زائد لاشوں کی تدفین کا منصوبہ بنایا گیا۔ دریں اثنا امدادی ٹیمیں دریاؤں اور ملبے کے ڈھیروں سے مزید لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیپال اور چین کی سرحد سے ملحقہ وادیوں میں گلیشیئر ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلاب کے باعث تقریباً 750 افراد ہلاک اور 3 ہزار سے زائد لاپتا ہیں۔

تقریباً 100 امدادی کارکن، پولیس اہلکار اور دیگر سرکاری افسران لاشوں کا ریکارڈ مرتب کرنے، تصاویر لینے، لواحقین کی شناخت میں مدد دینے اور تدفین کے انتظامات میں مصروف ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہر تدفین کی جگہ کا مکمل ریکارڈ رکھا جارہا ہے جبکہ شناختی نشانات زمین کے اوپر اور نیچے دونوں جگہ نصب کیے گئے ہیں۔ لاشوں سے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں شناخت ہونے کی صورت میں انہیں قبروں سے نکال کر لواحقین کے حوالے کیا جاسکے۔

بھارت نے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں نیپالی حکام کی مدد کے لیے فرانزک ٹیم بھیج دی ہے جبکہ نیپال چین کی ایک ٹیم سے بھی تعاون کر رہا ہے۔

بھرت پور اسپتال میں لاشوں کے گلنے سڑنے کی شدید بدبو عارضی مردہ خانے سے تقریباً 200 میٹر دور ہی محسوس ہونے لگی۔ عارضی مردہ خانے میں تقریباً 50 پولیس اہلکار اور اسپتال کے ملازمین لاشوں کو سنبھال رہے ہیں۔

رائٹرز کے نمائندے کو عارضی مردہ خانے کے داخلی راستے سے اندر دیکھنے کی اجازت دی گئی، جہاں تقریباً 125 لاشیں فرش پر پڑی تھیں۔ یہ تعداد مردہ خانے کی مقررہ گنجائش 50 لاشوں سے کہیں زیادہ تھی۔

آفت سے نمٹنے والے ایک مرکز کے انچارج انسپکٹر انیل تھاپا نے بتایا کہ لاشیں تیزی سے گل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ملنے والی آدھی سے زیادہ لاشیں ناقابل شناخت ہوچکی ہیں اور متعدد لاشوں کے چہرے بھی واضح نہیں رہے۔

چتوان ایکسپو سینٹر کے باہر 200 سے زائد افراد اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں جمع ہیں۔ حکام نے برآمد ہونے والی لاشوں کی تصاویر دکھانے کا انتظام کیا ہے تاکہ لواحقین بصری شناخت کرسکیں۔

بہت سے خاندان دور دراز علاقوں سے سفر کرکے یہاں پہنچے ہیں اور بعض کا کہنا تھا کہ وہ ایک روز قبل پہنچنے کے باوجود ہال میں داخلے کے منتظر ہیں۔

قریب ہی ایک پرانا ایک منزلہ مکان لاشوں کی عارضی اسٹوریج سہولت میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ لاشوں کو باڈی بیگز میں رکھ کر چارپائیوں پر رکھا گیا ہے جبکہ گلنے سڑنے کا عمل سست کرنے کے لیے خشک برف، ایئر کنڈیشنرز اور صنعتی کولنگ یونٹ مسلسل چلائے جارہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران 13 لاشیں لے جانے والی ایک گاڑی بھی عارضی مرکز پہنچی۔ صبح 10 بجے تک 6 ایمبولینسیں باہر موجود تھیں جبکہ مزید لاشیں لانے والی ایک گاڑی بھی جگہ خالی ہونے کی منتظر تھی۔

لواحقین مسلسل اس امید میں باہر انتظار کرتے رہے کہ شاید برآمد ہونے والی لاشوں میں ان کے پیارے بھی شامل ہوں۔

لاشوں کو سنبھالنے والے اہلکاروں پر بھی اس ہولناک صورتحال کے اثرات نمایاں ہیں۔ انسپکٹر انیل تھاپا نے کہا کہ ’جب میں یہاں کام کرنے آتا ہوں تو کھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، کھانا تو دور کی بات ہے، پانی پینے کو بھی دل نہیں چاہتا۔‘

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!