مستونگ باغات کی کٹائی اور لوگوں کے جائیداد پر قبضہ نو آبادیاتی منصوبہ ہے،حاجی لشکری رئیسانی
کوئٹہ.سینئر سیاست دان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں بلوچستان کے عوام کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، مستونگ میں باغات کی کٹائی، مختلف علاقوں میں لوگوں کی جائیدادوں پر مبینہ قبضے، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے ذریعے وسائل کا سودا اور لوگوں کی داخلی طور پر بے دخلی ایک نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ’’سرینہ پروجیکٹ کی پیداوار‘‘ ہیں، اس لیے ان کے بیانات پر بلوچستان کے عوام کو حیران ہونے کے بجائے ان سازشوں کے خلاف متحد ہوکر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بحرانوں سے نکلنے اور اپنے قومی اہداف کے حصول کے لیے باقاعدہ پالیسی تشکیل دیں اور سیاسی کارکن، حقیقی قبائلی عمائدین اور دیگر ذمہ دار حلقے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر قربان کرکے بلوچستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے آگے بڑھیں۔
لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی جماعتیں موجودہ بحرانوں کی ذمہ دار اور نام نہاد حکومت کی سہولت کار ہیں، عوام کو چاہیے کہ ایسے سہولت کاروں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو داخلی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کے بحران کا بھی سامنا ہے، ریاستی پالیسیوں کے تحت لوگوں کو مبینہ طور پر بے دخل کیا جارہا ہے، اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کو بلوچستان میں داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
سابق سینیٹر نے الزام عائد کیا کہ قانون کی آڑ میں بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار جاری ہے، زمینداری اور تجارت کو بھی ایک منصوبے کے تحت نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ ایسے افراد کو آگے لایا جارہا ہے جو ان کے بقول ریاستی پالیسیوں کے ذریعے پیدا کیے گئے ہیں۔
