اسرائیل اور مراکش نے سفارتی تعلقات بڑھانے کا اعلان کر دیا۔
اسرائیلی حکومت کے مطابق اسرائیل اور مراکش نے سفارتخانے کھولنے اور دونوں ملکوں میں سفیر تعینات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
بدھ کو دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات نیویارک میں ہوئی، جس کی میزبانی اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدون ساعر اور مراکشی وزیر خارجہ ناصر بوریطہ نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔
اس سلسلے میں رواں سال کے اختتام تک سرمایہ کاری کے تحفظ اور دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کے حوالے سے دو معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے تینوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ مراکش اور اسرائیل کے درمیان مکمل سفارتی، پُرامن اور دوستانہ تعلقات کا قیام دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے اور اس سے امن کے مقصد کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
دونوں فریقوں نے فضائی سفر میں توسیع، بشمول دونوں ممالک کی ائیرلائنز کی براہِ راست پروازوں کی بحالی پر بھی اتفاق کیا۔اس کے علاوہ آنے والے مہینوں میں اعلیٰ سطح کے دوطرفہ دوروں کے منصوبوں کی بھی تصدیق کی گئی۔
واضح رہے کہ مراکش ان 4 عرب ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے 2020 میں امر یکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھائے۔دیگر عرب ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان شامل ہیں۔
