جنسی بلیک میلنگ یا سیکسٹورشن ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے جو بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن درپیش ہے اور یہ ان پلیٹ فارمز اور ایپس پر ہو رہا ہے جنہیں وہ روزمرہ استعمال کرتے ہیں۔
اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے بچے جو جنسی بلیک میلنگ کا شکار ہوتے ہیں خاموشی میں تکلیف اٹھاتے ہیں کیونکہ انہیں نہیں پتہ کہ مدد کے لیے کس کے پاس جائیں یا وہ بہت شرمندہ یا ڈرے ہوئے ہوتے ہیں کہ کسی کو بتائیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے اس بارے میں آگاہی اور مدد کے لیے سوشل میڈیا سروس شروع کی ہے، یونیسیف ماہرین نے جنسی بلیک میلنگ کے خطرے اور اس سے نمٹنے کے پہلوؤں کی نشاندہی کی۔
سیکسٹورشن کیا ہے؟
اس میں مجرم جنسی چیٹس، برہنہ تصاویر یا ویڈیوز جاری کرنے کی دھمکی دے کر مزید جنسی مواد یا پیسے کا مطالبہ کرتا ہے۔
سیکسٹنگ اور سیکسٹورشن کا کیا تعلق ہے؟
سیکسٹنگ میں برہنہ یا نیم برہنہ مواد کا اشتراک ہوتا ہے، ایک بار تصویر شیئر ہو جائے تو اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اکثر مجرم اجنبی نہیں بلکہ دوست، سابقہ پارٹنر یا جاننے والے لوگ ہوتے ہیں۔
سوال: اے آئی کا کیا کردار ہے؟
اب “نیوڈیفائی” ایپس اور جنریٹو اے آئی سے حقیقی تصاویر کے بغیر بھی جھوٹی برہنہ تصاویر بنا کر دھمکی دی جا سکتی ہے جو نوجوانوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔
اس کے نوجوانوں پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟
شرم، خوف اور بے چینی کی وجہ سے بہت سے نوجوان خاموش رہتے ہیں اور کبھی خودکشی تک کر لیتے ہیں۔
والدین کیا کریں؟
والدین کو بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے اور یقین دلانا چاہیے کہ انہیں سزا نہیں ملے گی بلکہ مدد ملے گی۔ اگر کوئی واقعہ پیش آئے تو فوری طور پر پولیس، اسکول یا چائلڈ ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
تصاویر ہٹانے کے لیے “Take It Down” جیسی مفت سروس بھی دستیاب ہے، بنیادی آگاہی اور کھلی بات چیت ہی سب سے اہم دفاع ہے،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے سوشل میڈیا سروس شروع کی ہے والدین ایک کلک پر مدد مانگ سکتے ہیں۔
