جمعرات, ستمبر 24, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںگوادر پورٹ غیر فعال ہونے کا تاثر بے بنیاد، پورٹ چارجز خطے...

گوادر پورٹ غیر فعال ہونے کا تاثر بے بنیاد، پورٹ چارجز خطے کے کئی پورٹس سے کم ہیں، نورالحق بلوچ

کوئٹہ :گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کو فعال نہ ہونے دینے کا تاثر سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، گوادر میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جسے مستفید ہونے کےلئے بیرون ملک اور ملکی صنعتکار و سرمایہ گوادر پورٹ اتھارٹی سے رابطہ کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی بزنس کمیونٹی گوادر ایسٹ اور ساو¿تھ فری زونز میں صنعتیں قائم کرنے کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائے، فری زونز میں مناسب نرخوں پر زمین کی الاٹمنٹ کی جا رہی ہے جبکہ الاٹمنٹ کے بعد مقررہ مدت کے اندر صنعت کا قیام بھی لازمی ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی، سینئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ اور دیگر عہدیداران و ممبران بھی موجود تھے۔گوادر پورٹ اتھارٹی کے چی¿رمین نورالحق بلوچ نے کہا کہ گوادر کے حوالے سے موجود مواقع سے بزنس کمیونٹی کو آگاہ کرنا ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت چیمبر آف کامرس کوئٹہ کا دورہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کے حوالے سے یہ تاثر درست نہیں کہ اسے چلنے نہیں دیا جا رہا، حقیقت یہ ہے کہ گوادر پورٹ کے پورٹ چارجز خطے کے دیگر کئی پورٹس کے مقابلے میں کم ہیں، جو کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم سہولت ہے۔انہوں نے بتایا کہ گوادر، گبد کے ذریعے ایران کے لیے نوٹیفائیڈ ٹرانزٹ روٹ سے منسلک ہے جبکہ گوادر سے تاشقند تک تقریباً 2700 کلومیٹر پر مشتمل ”بلیو گولڈ روٹ“ خطے کے مختصر ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان رابطہ کاری کے منصوبوں سے بلوچستان سمیت پورے خطے میں تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔نورالحق بلوچ نے کہا کہ گوادر ساو¿تھ اور نارتھ فری زونز میں سرمایہ کاری اور الاٹمنٹ کے لیے مناسب نرخ مقرر کیے گئے ہیں، لہٰذا بلوچستان کی مقامی بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فری زونز میں زمین کی الاٹمنٹ کے بعد دو سال کے اندر صنعت کا قیام لازمی ہوگا، تاکہ الاٹ کی گئی زمین کو محض سرمایہ کاری یا غیر پیداواری مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور حقیقی صنعتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ بیرونِ بلوچستان سے صنعتکار اور سرمایہ کار گوادر میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے گوادر پورٹ اتھارٹی سے رابطہ کر رہے ہیں، تاہم بلوچستان کی اپنی بزنس کمیونٹی کو بھی ان مواقع سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ چیمبر کی جانب سے گوادر میں آگاہی سیمینار کے انعقاد کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔چی¿رمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس سے اپیل کی کہ وہ گوادر میں اپنا دفتر قائم کرے تاکہ بزنس کمیونٹی کو گوادر کی صورتحال، سرمایہ کاری کے مواقع اور کاروباری سرگرمیوں سے براہ راست باخبر رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کوئٹہ اور گوادر کی بزنس کمیونٹی کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں کوسٹل فیری سروس کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی جا چکی ہے، جس سے ساحلی علاقوں کے درمیان سفری و تجارتی رابطوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں پینے کے صاف پانی کی کمی کے حوالے سے بھی جو خدشات پائے جاتے ہیں، ان کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گوادر میں قائم پلانٹ سمندر کے پانی کو صاف کرکے روزانہ 12 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس موقع پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی سینئر نائب صدر چیمبر حاجی اختر کاکڑ اور دیگر عہدیداران نے بھی نے کہا کہ گوادر پورٹ کے حوالے سے طویل المدتی اور مستقل پالیسیاں ہی مو¿ثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکومت اور گوادر پورٹ اتھارٹی کو مقامی بزنس کمیونٹی کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ بلوچستان کے تاجر اور صنعتکار گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے آگے بڑھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر کے حوالے سے یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ عالمی قوتیں اسے فعال نہیں دیکھنا چاہتیں، تاہم ایسے تمام خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کے لیے مقامی بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گوادر میں الاٹمنٹ سمیت سرمایہ کاری کے مختلف معاملات میں بلوچستان کی مقامی بزنس کمیونٹی کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے صنعتکار اور تاجر گوادر میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم اس کے لیے انہیں واضح پالیسی، سہولیات، شفاف طریقہ کار اور طویل المدتی یقین دہانیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی سرمایہ کاروں کو اعتماد اور مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو گوادر میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے گوادر میں سرمایہ کاری کے مواقع، فری زونز، بندرگاہی سہولیات اور مقامی کاروباری طبقے کے لیے ترجیحات کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ گوادر کو بلوچستان اور ملکی معیشت میں مو¿ثر کردار ادا کرنے والے صنعتی و تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے حکومت، گوادر پورٹ اتھارٹی اور بزنس کمیونٹی کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے۔سیشن کے دوران شرکاءنے گوادر میں سرمایہ کاری سے متعلق مختلف شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے چی¿رمین سے مختلف سوالات بھی کیے، جن کے انہوں نے تفصیلی جوابات دیے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بزنس کمیونٹی کو گوادر میں دستیاب مواقع، فری زونز کی سہولیات اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے مزید آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔سیشن کے اختتام پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کی جانب سے گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئر مین نورالحق بلوچ کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!