منگل, اگست 25, 2026
ہوماہم خبریںبین الاقوامی خبریںترکیہ اور اسرائیل کے درمیان مسلح تصادم کا خدشہ، انقرہ اور تل...

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان مسلح تصادم کا خدشہ، انقرہ اور تل ابیب میں خفیہ رابطے شروع

شمالی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر دونوں ممالک نے براہِ راست ٹکراؤ سے بچنے کے لیے خفیہ رابطے قائم کرلیے ہیں۔ اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ترکیہ کو دشمن نہیں بنانا چاہتا، تاہم شام میں مزید کارروائی کا امکان بھی خارج نہیں کیا جاسکتا۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران شمالی شام کے ادلب کے نواح میں واقع ابو الظہور اڈے پر اسرائیلی بمباری کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اس پس منظر میں ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے ترکیہ کے ساتھ خفیہ رابطے کے ذرائع کھول دیے ہیں۔

ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیل ترکیہ کو دشمن میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور کسی بھی قسم کے براہِ راست ٹکراؤ سے بچنے کے لیے خفیہ رابطے قائم کیے گئے ہیں۔ یہ بات اسرائیلی چینل 2 کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

تاہم اسرائیلی عہدیدار نے شام میں اسرائیل کی جانب سے مزید حملوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پیغامات مؤثر ثابت نہ ہوں تو اسرائیلی فریق کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے شمالی شام میں اسرائیلی فضائی حملوں پر تنقید کی ہے۔

ٹام بارک نے کہا کہ اسرائیل نے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنانے سے قبل امریکا کو اطلاع نہیں دی تھی۔

ترکیہ میں امریکی سفیر کی ذمہ داری بھی نبھانے والے ٹام بارک کے مطابق منگل کو ہونے والا حملہ اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کو اکسانے کی ایک خطرناک اور تشویش ناک کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس اڈے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ دمشق ترک فوجیوں کو وہاں تعینات کرنے کی اجازت دے کر ایک معاہدے کی خلاف ورزی کے قریب تھا۔

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان ترکیہ کو شام میں خطرناک مہم جوئی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کسی بھی فریق کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔

ابو الظہور اڈہ ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) مشرق میں واقع ہے۔ اس کی اہمیت اس کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث ہے، کیونکہ یہ ادلب، حماہ اور حلب کے درمیان واقع ہے اور شامی صحرائی علاقے کے بھی قریب ہے۔

یہ ہوائی اڈہ شمالی شام کے اہم ترین فوجی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور ماضی میں سابق شامی حکومت کے زیرِ انتظام فوجی اڈوں میں شامل تھا۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!